04:35 , 26 اپریل 2026
Watch Live

ایران نے امریکا سے براہِ راست مذاکرات سے انکار کر دیا

امریکا ایران مذاکرات جنگ کشیدگی
امریکا ایران مذاکرات جنگ کشیدگی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حکام سے کسی بھی براہ راست ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے روانہ ہوں گے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی جا سکے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ایران کے پاس اب بھی ایک “بہتر معاہدے” کا موقع موجود ہے، لیکن اسے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو قابلِ تصدیق طور پر ختم کرنا ہوگا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے پاس ابھی بھی درست فیصلہ کرنے کا “کھلا موقع” ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران نے امریکی نمائندوں سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھا۔ ان کے مطابق ایران اپنے مؤقف کو ثالثی کے ذریعے پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا۔

یورپی یونین نے ایران پر پابندیاں نرم کرنے کا اشارہ دے دیا

وائٹ ہاؤس نے ایرانی بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایرانی رویے میں کچھ پیش رفت دیکھی گئی ہے۔

ادھر خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے خطرناک صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔

اسی دوران مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی کشیدگی برقرار ہے، اگرچہ وائٹ ہاؤس میں جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے کی یہ صورتحال عالمی امن اور معیشت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION